Monday, December 19, 2022

Story 2

 ایک گاؤں میں چیتا آتا، کمزوروں کی جھونپڑیوں سے ان کے کسی نہ کسی معصوم بچے کو اٹھا کر لے جاتا۔ 

اس گاؤں کے سارے طاقتور مل کر کمزوروں کی مالی مدد بھی کرتے، اور دوسروں میں بھی مدد کا جذبہ پیدا کرنے کا بہانہ بنا بنا کر دور دور تک اپنی مدد کی تشہیر بھی کرتے رہتے۔ عبادت گاہوں میں اجتماعی توبہ کا انتظام بھی کروایا جاتا۔ 

جب بھی کسی طاقتور سے پوچھا جاتا کہ چیتے کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی تو وہ کہتا جناب کوشش تو بہت کرتے ہیں، رات میں گاؤں کے چاروں طرف پہرہ بھی بٹھاتے ہیں، مگر شاید یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ گناہ بہت بڑھ گئے ہیں۔ دعا کریں کہ مالکِ کائنات ہم پر رحم فرمائے۔ 

کمزوروں کو سکھایا جاتا کہ سب مل کر اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور دعا کرو کہ چیتا مر جائے۔ یا وہ ہماری بستی سے ہی کہیں دور چلا جائے۔ 

سب دعائیں کرتے رہے مگر کوئی دعا قبول نہ ہوئی۔ چیتے کے منہ کو بچوں کے خون کی صورت ایک آسان شکار کرنے کا چسکا لگ چکا تھا۔


پھر ایک دن مالکِ کائنات کے حکم سے اس کمزور انسان کا بچہ چیتا اٹھا کر لے گیا، جسے مالکِ کائنات نے دعا کرنے کا سلیقہ سکھا دیا تھا۔ اس انسان نے ہاتھ اٹھائے، آسمان کی طرف روتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور کہا، اے وہ ذات کہ جس نے سب کچھ تخلیق کیا اور تن تنہا تخلیق کیا، اور جس کا کوئی شریک نہیں، تو نے چیتے کو پیدا کیا ہے، اسے درندہ بنایا ہے، اس کا کوئی قصور نہیں وہ تو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے شکار کرے گا، اور جہاں اسے شکار آسانی سے مل جائے وہ اسے شکار کرنے کہیں اور کیوں جائے گا۔ 

اے مالک کائنات! اگر تو چاہے تو وہ چیتا دوبارہ کبھی یہاں نہیں آئے گا، مگر میں جانتا ہوں کہ تو نے یہ دنیا امتحان کی جگہ بنائی ہے اور تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تیرے طاقتور بندے تیرے کمزور بندوں کی تکلیف میں کتنا درد محسوس کرتے ہیں۔ اے مالک کائنات! میں تجھ سے چیتے کے مرنے کی دعا نہیں کرتا، کیونکہ اگر تو چاہتا تو ایسے کسی چیتے کو پیدا ہی نہ کرتا۔ میں تجھ سے صرف اتنا مانگتا ہوں کہ تو نے جس جس کو یہ طاقت اور دولت دے رکھی ہے کہ وہ اس چیتے کو پکڑ کر مار دیں، تو اسی چیتے کے ہاتھوں ویسے ہی ان میں سے کسی کا بچہ بھی شکار کروا دے جیسے تو نے میرا بچہ شکار کروایا ہے۔ 


اگلی صبح گاؤں میں ہنگامہ بپا تھا کہ گاؤں کے سب سے طاقتور کے گھر کے صحن سے چیتا اس کا بچہ اٹھا کر لے گیا ہے۔ آس پاس کے سات گاؤں کے طاقتور، اپنی گاڑیوں، شکاری کتوں اور اسلحہ سے لیس لوگوں کے ساتھ چیتے کی تلاش میں نکل پڑے۔ سب کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ اب اس چیتے کی ہمت بہت بڑھ گئی ہے، یہ کمزور جھونپڑیوں کو چھوڑ کر اونچی حویلیوں کی دیواریں پھلانگنے لگا ہے۔ 

درجنوں شکاری کتوں نے کچھ ہی دیر میں چیتا ڈھونڈھ نکالا۔ اسے مار دیا گیا۔ اس کی لاش کو گاؤں کے بیچوں بیچ لٹکا کر گولیاں برسائی گئیں۔


کہتے ہیں کہ اس گاؤں سے دوبارہ پھر کبھی کسی کمزور کا بچہ کسی چیتے کا شکار نہیں بنا۔ اس گاؤں کے داخلی راستے پر اس طاقتور گاؤں والے کے چیتے کا شکار ہونے والے بچے کے نام کی ایک بہت بڑی پتھر کی یادگار بنائی گئی، جس پر لکھا گیا کہ جانباز شہید جس کے خون کی برکت سے رب العالمین نے گاؤں والوں کو ایک خونی درندے سے نجات دی۔ 


دور دور کے گاؤں سے لوگ اس طاقتور کے بچے کی ماں سے اپنی مشکلوں کے لئے دعائیں کروانے آتے ہیں کیونکہ سب کا ماننا یہ ہے کہ گاؤں سے بچے تو بڑے گناہگاروں کے بھی اٹھائے گئے مگر آخر کار دعا ایک نیک دل ممتا کی مورت کی ہی قبول ہوئی اور سب کو اس عذاب سے نجات مل گئی۔۔۔ 


👈 آئیے! اس کمزور گناہگار انسان سے دعا کرنے کا سلیقہ سیکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کاش ایسے ہی نیک دلوں اور طاقتوروں کا سب کچھ بھی یہ سیلاب، مہنگائی، بدامنی برباد کر دے کہ جو اس ملک میں طاقت رکھتے ہوئے بھی ان طاقتوروں کی طرح اس دن تک صرف گنہگار غریبوں میں صرف دیگیں، راشن، کپڑے اور بانٹتے، اور جھوٹی تسلیاں و وعدے کرتے رہیں گے جب تک کہ انکا اپنا بچہ اس پانی، مہنگائی اور بدامنی کے سیلاب میں نہیں بہہ جاتا۔ 

آئیے! ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جن کو حرف دعا یاد نہیں۔۔۔

Saturday, December 17, 2022

Story


سزائیں آج بھی دی جاتی ہیں اور ماضی میں بھی دی جاتی تھیں۔ عموماً یہ نظامِ انصاف کے ذریعے اور قانون کے تحت دی جاتی تھیں اور ہیں لیکن متعدد مرتبہ ایسا نہیں بھی ہوتا۔ ماضی میں اکثر ایسا ہوتا کہ کبھی مطلق العنان حاکم اور کبھی کوئی طاقتور قبیلہ زیردستوں کو من مانی ’’سزائیں‘‘ دے ڈالتا۔ کبھی سزائیں اقتدار کے کھیل کا ایک حصہ ہوتیں۔ بادشاہ کے انتقال پر وارثوں میں اقتدار کی لڑائی چھڑ جاتی اور پھر جو حلقہ کامیاب ہوتا اکثر دوسرے کو مجرم قرار دیتا۔ یورپ میں عہدِ وسطیٰ میں یوں بھی ہوا کہ کسی کو چڑیل یا جادوگرنی قرار دے کر زندہ جلا دیا گیا۔ اس عہد میں مسلسل سنگ باری سے اذیت ناک موت دی جاتی رہی۔ مغل دربار سے وابستہ ایک کنیز کو دیوار میں چننے کی داستان سے تو ہم سب واقف ہیں ہی۔ غرضیکہ تاریخ میں ایسی دردناک اور ظالمانہ سزائیں دی جاتی رہی ہیں جن کا آج تصور کرنا محال ہے۔ ان میں سے ایک سزا ہاتھی سے کچلنا تھی۔ ایشیائی ہاتھی کا وزن 54 سو کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے اور جنگلی افریقی ہاتھی کا 27 سو کلوگرام کے قریب۔ افریقہ کے سبزہ زاروں میں پائی جانے والی ہاتھی کی ایک قسم کا وزن سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ 6 ہزار کلوگرام کے لگ بھگ وزنی ہوتے ہیں۔ ہاتھی ایشیائی ہو یا افریقی، اتنا بھاری ہوتا ہے کہ اس کا پاؤں سینے پر پڑ جائے تو انسان کی جان چلی جائے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ ہاتھی سے انسان کو مارنے کا خیال سب سے پہلے کسے آیا لیکن اتنا ضرور ہے کہ زمانہ قدیم سے بعض علاقوں میں بطور سزا ’’مجرموں‘‘ کو ہاتھیوں کے ذریعے کچلا جاتا تھا۔ ظاہر ہے اس سزا کا رواج ان علاقوں میں تھا جہاں ہاتھی پائے جاتے تھے۔ یہ سزا بالخصوص برصغیر میں رائج رہی اور اس کے لئے ایشیائی ہاتھیوں کو استعمال کیا جاتا۔ مغل بادشاہوں کی جانب سے لوگوں کو ایسی سزاؤں کا ذکر مختلف دستاویزات میں درج ہے۔ 1330ء کی دہائی میں دہلی آنے والے مشہور سیاح ابنِ بطوطہ نے ایک وزیر کی جان لینے کی کوشش پر دی جانے والی ایسی ہی سزا کا احوال بیان کیا ہے۔ برصغیر میں مراٹھا حکمران بھی ہاتھیوں سے ’’مجرموں‘‘ کو مارا کرتے تھے۔ میانمار اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اس طرح کی سزاؤں کا پتا زمانہ قدیم کے شواہد سے چلتا ہے۔ مانو سمرتی ہندو قوانین کی ایک قدیم کتاب ہے جسے تقریباً دوسری صدی عیسوی میں لکھا گیا۔ اس میں بہت سے جرائم کی سزا ہاتھیوں سے کچلنے کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کام کے لیے ہاتھیوں کو سدھایا جاتا تھا اور وہ ایک ہی بار یا اذیت دے دے کر مارنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ سزائیں وہی دے سکتے تھے جن کے پاس ہاتھی جیسے بڑے جانور پالنے اور سدھانے کی استطاعت ہو۔

Story 2

 ایک گاؤں میں چیتا آتا، کمزوروں کی جھونپڑیوں سے ان کے کسی نہ کسی معصوم بچے کو اٹھا کر لے جاتا۔  اس گاؤں کے سارے طاقتور مل کر کمزوروں کی مالی...